سنن النسائي - حدیث 3969

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ بَابُ شَرِكَةِ الْأَبْدَانِ ضعيف أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ وَسَعْدٌ يَوْمَ بَدْرٍ فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ وَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَلَا عَمَّارٌ بِشَيْءٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3969

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل شرکت ابدان حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن میں‘ عمار اور سعد شریک بن گئے۔ سعد دوقیدی لائے‘ جبکہ میں اور عمار کوئی قیدی نہ لاسکے۔ یہ روایت ضعیف ہے‘ تاہم شرکت ابدان کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ دو (یا زیادہ) آدمی ایک کام مل کر کریں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی آپس میں برابر تقسیم کرلیں اگرچہ ممکن ہے ایک آدمی زیادہ کام کرے دوسرا کم‘ جیسے مذکورہ روایت میں ذکر ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کودوغلام لمملے‘ دوسرے دوکو کچھ نہ مل سکا مگر انہوں نے دوقیدی تینوں میں برابر بانٹ لیے۔ (یعنی ان کی قیمت یا ان کا فدیہ) اسی طرح دومستری یا مزدور یا دودرزی اکٹھے کام کریں اور مزدوری بابر بانٹ لیں۔ اسے شرکت ضائع بھی کہتے ہیں۔ شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ اس کی بنیاد ہمدردی اور مروت ہے کہ کوئی بھائی کمزور ہونے کی بنا پر معیشت سے محروم نہ رہے۔