سنن النسائي - حدیث 3960

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ ذِكْرُ اخْتِلَافِ الْأَلْفَاظِ الْمَأْثُورَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ صحيح الإسناد مقطوع أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ كَانَ مُحَمَّدٌ يَقُولُ الْأَرْضُ عِنْدِي مِثْلُ مَالِ الْمُضَارَبَةِ فَمَا صَلُحَ فِي مَالِ الْمُضَارَبَةِ صَلُحَ فِي الْأَرْضِ وَمَا لَمْ يَصْلُحْ فِي مَالِ الْمُضَارَبَةِ لَمْ يَصْلُحْ فِي الْأَرْضِ قَالَ وَكَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَدْفَعَ أَرْضَهُ إِلَى الْأَكَّارِ عَلَى أَنْ يَعْمَلَ فِيهَا بِنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَأَعْوَانِهِ وَبَقَرِهِ وَلَا يُنْفِقَ شَيْئًا وَتَكُونَ النَّفَقَةُ كُلُّهَا مِنْ رَبِّ الْأَرْضِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3960

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل مزارعت (بٹائی) کے بارے میں منقول الفاظ کے اختلاف کا بیان حضرت محمد بن سیرین فرماتے تھے کہ میرے نزدیک زمین مضاربت کے مال کی طرح ہے۔ جو کچھ مالِ مضاربت میں درست ہے‘ وہ زمین میںبھی درست ہے اور جو مال مضاربت میں درست نہیں‘ وہ زمین میں بھی درست نہیں۔ اور وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ زمین مزارع کے سپرد کردے اور وہ (مزارع) اس میں خود یا اپنی اولاد اور اپنے ساتھیوں اور اپنے بیلوں وغیرہ کے ساتھ کام کرے اور خرچ کچھ نہ کرے بلکہ اخراجات سب کے سب مالک زمین کی طرف سے ہوں۔ حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ کا مزارعت (بٹائی) کو مضاربت پر قیاس کرنا بالکل صحیح ہے۔ دونوں میں کوئی فریق نہیں۔ مضاربت میںایک شخص دوسرے کو رقم حوالے کرتا ہے کہ اس کے ساتھ تجارت کرو۔ وقت مقررہ کے بعد اس کا نفع فلاں نسبت سے تقسیم کرلیں گے اور مزارعت میں ایک شخص اپنی زمین دوسرے کے سپرد کرتا ہے کہ اس میں کاشت کاری کرو۔ پیداوار کو فلاں نسبت سے تقسیم کرلیں گے۔ اصل رقم اور زمین مالکوں کو واپس مل جاتی ہے۔ دونوں میں سرموفوق نہیں‘ البتہ حضرات ابن سیرین کا یہ فرمانا کہ ’’مزارع صرف کام کرے‘ اخراجات سب کے سب مالک زمین کے ذمہ ہو‘‘ ضروری نہیں کیونکہ رسول اللہﷺ سے ایسی شرط صراحتاً مذکور نہیں‘ لہٰذا فریقین جو بھی طے کرلیں‘ جائز ہونا چاہیے‘ البتہ کسی پر ظلم نہ ہو۔ (دیکھیے سابقہ حدیث)