سنن النسائي - حدیث 3955

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ ذِكْرُ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، صحيح أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعٍ قَالَ أَتَانَا ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ فَقَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا رَافِقًا قُلْتُ وَمَا ذَاكَ قَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَقٌّ سَأَلَنِي كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي مَحَاقِلِكُمْ قُلْتُ نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَالْأَوْسَاقِ مِنْ التَّمْرِ أَوْ الشَّعِيرِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ امْسِكُوهَا رَوَاهُ بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ رَافِعٍ فَجَعَلَ الرِّوَايَةَ لِأَخِي رَافِعٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3955

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر حضرت رافع سے روایت ہے کہ ہمارے پاس حضرت ظہیر بن رافع آئے اور فرمایا: مجھے رسول اللہﷺ نے ایک ایسے کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے مفید تھا۔ میں نے کہا: وہ کیا؟ وہ فرمانے لگے: اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہی صحیح اور برحق ہے۔ آپ نے مجھ سے پوچھا: ’’تم اپنی (زائد) زمینوں کو کیا کرتے ہو؟‘‘ میں نے کہا: ہم انہیںپیداوار کے تہائی یا چوتھائی حصے اور چندوسق کھجوروں یا جوکے عوض بٹائی پر دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’تو ایسے نہ کرو‘ انہیں خود کاشت کرو یا کسی کو بلامعاوضہ کاشت کے لیے دے دو یا اسی طرح رہنے دو۔‘‘ یہ روایت بکیر بن عبداللہ بن اشج نے اسید بن رافع سے بیان کی ہے تو اسے (حضرت رافع بن خدیج کے بجائے) حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے بھائی کی روایت بنایا ہے۔ (دیکھیے‘ آئندہ روایت) (۱) ’’وسق‘‘ ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع سوا دوکلو کا ہوتا ہے۔ گویا وسق تقریباً تین من پندرہ کلو کا ہوتا ہے اور یہ وزن نہیں بلکہ پیمانہ تھا۔ مد اور صاع دوبرتن تھے جن میں وہ غلہ ماپتے تھے۔