سنن النسائي - حدیث 3935

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ ذِكْرُ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، صحيح أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ أَخْبَرَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ أَرْسَلَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3935

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر حضرت سالم بن عبداللہ سے راویت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی زمین بٹائی پر دیتے تھے حتیٰ کہ انہیں معلوم ہوا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بٹائی سے روکتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ان سے ملے اور کہا: اے ابن خدیج! زمین کی بٹائی سے متعلق آپ رسول اللہﷺ سے کیا بیان کرتے ہیں؟ تو حضرت رافع نے کہا: میں نے اپنے دو چچاؤںسے سناہے اور وہ دونوں بدری صحابی تھے‘ وہ اپنے گھر والوں کو بتا رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع کیا ہے جبکہ میں جانتا تھا کہ رسول اللہﷺ کے دور میں زمینیں بٹائی پر دی جاتی تھیں (اور آپ منع نہیں فرماتے تھے)۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو خدشہ محسوس ہوا کہ ایسا نہ ہوکہ رسول اللہﷺ نے ا س بارے میں کوئی حکم جاری فرمایا ہو مگر مجھے پتا نہ چلا ہو‘ اس لیے انہوں نے زمین بٹائی پر دینی چھوڑدی۔ شعیب بن ابوحمزہ نے اس رایت کو مرسل بیان کیا ہے۔ بارہا گزرچکا ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس وقت کی مروجہ بٹائی سے روکا تھا جس میں معاوضہ مخصوص مقامات کی فصل یا معین مقدار میں غلہ طے پاتا تھا۔ یا آپ نے بڑے زمینداروں کو ازراہ ہمدردی مفت زمین دینے کی رغبت دلائی تھی ورنہ بٹائی صحیح شرائط کے ساتھ آپ کے دور میں جاری تھی۔ خیبر کو آپ نے خود بٹائی پر دیا۔ خلفائے راشدین کے دور میں ایسے ہوتا رہا۔ بڑے بڑے مجتہد صحابہ بٹائی پر دیتے رہے‘ لہٰذا محقق بات یہی ہے کہ بٹائی پر زمین دینا درست ہے۔