سنن النسائي - حدیث 3931

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ ذِكْرُ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ رَبِيعَةَ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ قُلْتُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ قَالَ لَا إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا بِمَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ فَلَا بَأْسَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَبِيعَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3931

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر حضرت حنظلہ بن قیس سے راویت ہے‘ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے زمین کرائے (بٹائی) پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: سونے چاندی (دینار‘ درہم یعنی روپے پیسے) کے ساتھ بھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے تو صرف زمین کی پیداوار کے عوض دینے سے منع فرمایا تھا۔ سونے چاندی کے عوض تو کوئی حرج نہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت ربیعہ سے بیان کی ہے‘ لیکن انہوں نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ (لیکن اس کا کوئی نقصان نہیں ہے کیونکہ اکثر لوگوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے۔)