سنن النسائي - حدیث 3926

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ ذِكْرُ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، صحيح أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِي فَقَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ وَنُكْرِيَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ أَيُّوبُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ يَعْلَى

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3926

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے زمانے میں اپنی زمینیں پیداوار کی تہائی یا چوتھائی یا مقررہ مقدار میں غلے کے عوض بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ ایک دن میرے چچاؤں میں سے کوئی صاحب آئے اور کہنے لگے: رسول اللہﷺ نے مجھے ایسے کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے بہت مفید تھا‘ جبکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہمارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے۔ آپ نے ہمیں زمینیں پیداوار کے تہائی یا چوتھائی حصے یا معین غلے کے عوض بٹائی پر دینے سے منع فرمادیا ہے۔ اور آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کاشت کرے یا کسی (مسلمان بھائی) کو بلامعاوضہ کاشت کے لیے دے دے۔ آپ نے بٹائی ٹھیکے وغیرہ کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ ایوب نے یعلی بن حکیم سے یہ حدیث نہیں سنی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث خود رسول اللہﷺ سے نہیں سنی بلکہ اپنے چچا کے واسطے سے سنی ہے۔ کبھی چچا کا ذکر نہیں بھ کیا۔ ممکن ہے بعد میں خود بھی جا کر رسول اللہﷺ سے پوچھ لیا ہو۔ واللہ اعلم۔