سنن النسائي - حدیث 3918

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ ذِكْرُ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنْ الْمُزَارَعَةِ فَحَدَّثَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ مَرَّةً أُخْرَى

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3918

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر عثمان بن مرہ نے کہا کہ میں نے قاسم (بن محمد) سے مزارعت (مضاربت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے محاقرہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ نے ایک دوسری بار یوں فرمایا۔ (۱) مرۃ اخریٰ کے بارے میں دواحتمال ہیں: ایک یہ کہ امام نسائی رحمہ اللہ کے شاگرد کا قول ہے اور وہ امام صاحب رحمہ اللہ کے بارے میں بتارہے ہیں کہ انہوں نے ہمیں دوبارہ بیان کیا۔ اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ امام نسائی رحمہ اللہ کا اپنا قول ہے اور وہ اپنے استاد عمروبن علی کے بارے میں بتارہے ہیں کہ انہوں نے ہمیں دوبارہ بیان کیا۔ سنن الکبریٰ کے الفاظ دوسرے مفہوم پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کی عبارت ہے: ]أخبرنا عمروبن علي مرۃ أخریٰ[ یہاں ترجمہ پہلے مفہوم کے مطابق کیا گیا ہے۔ دونوں ممکن ہیں۔ واللہ اعلم۔ مزید دیکھیے: (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائي: ۳۱/۱۴۴) (۲) راویوںکا اختلاف بیان کیا جارہا ہے۔ کسی نے کسی صحابی کا نام لیا‘ کسی نے کسی کا۔ ممکن ہے سب سے راویت آتی ہو۔