سنن النسائي - حدیث 3911

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ ذِكْرُ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، صحيح أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَعَنْ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ وَفِي رِوَايَةِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ عَطَاءً لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَابِرٍ حَدِيثَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3911

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے محاقلہ‘ مزابنہ‘ مخابرہ اور مجہول استثنا کرنے سے منع فرمایا ہے‘ ہاں استثنا معلوم ہو تو کیا جاسکتا ہے۔ ہمام بن یحییٰ کی روایت گویا دلیل کی طرح ہے اس پر کہ عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی نبیﷺ سے بیان کردہ یہ حدیث نہیں سنی: ’’جس کی زمین ہو اسے چاہیے کہ ہو خود اسے کاشت کرے۔‘‘ (۱) لیکن امام صاحب کا یہ تبصرہ محل نظر ہے کیونکہ صحیح بخاری ومسلم میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اس میں بھی عطاء جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ جو سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے ان کی سماع کی صریح دلیل ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری‘ الحرث والمزارعۃ‘ حدیث: ۲۳۴۰‘ وصحیح مسلم البیوع‘ حدیث: ۱۵۳۶‘ بعد حدیث: ۱۵۴۳) (۲) ’’مجہول استثنا: مثلاً: کوئی شخص باغ کا پھل فروخت کرتے وقت کہے کہ اس میں سے پودوں کا پھل میں لوں گا۔ مگر پودے معین نہ کرے۔ اس قسم کا مجہول استثنا بعد میں جھگڑے کا سبب بنتا ہے‘ اس لیے منع ہے‘ نیز خریدار پر ظلم کا بھی خطرہ ہے کہ باغ کا مالک بہترین پودے اپنے لیے خاص کرلے‘ البتہ اگر پودے شروع ہی میں متعین کردے جائیں تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ سود واضح ہے۔