سنن النسائي - حدیث 3909

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ ذِكْرُ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، صحيح أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ رَفَعَهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ وَافَقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ عَلَى النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3909

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ (رسول اللہﷺ نے) زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔زمین کرائے یا ٹھیکے پر دینے کی ممانعت کے مسئلے میں عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے مطر بن طہمان کی موافقت کی ہے۔ واللہ اعلم۔ کرایہ کی دو صورتیں ہیں: مقررہ رقم‘ یا پیداوار میں سے مقررہ حصہ‘ مثلاً: نصف‘ تہائی یا چوتھائی وغیرہ۔ پہلی صورت کو عرف عام میں ٹھیکہ اور دوسری صورت کو بٹائی کہتے ہیں۔ منع کا مفہوم شروع میں بیان ہوچکا ہے۔