سنن النسائي - حدیث 3907

كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ ذِكْرُ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، صحيح أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ لِأُنَاسٍ فُضُولُ أَرَضِينَ يُكْرُونَهَا بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ يُزْرِعْهَا أَوْ يُمْسِكْهَا وَافَقَهُ مَطَرُ بْنُ طَهْمَانَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3907

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں کے پاس فالتو زمینیں تھیں۔ وہ انہیں نصف یا تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر دیتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص کے پاس فالتو زمین ہو‘ وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی اسلامی بھائی کو بلامعاوضہ کاشت کے لیے دے دے یا پھر سنبھالے رکھے۔‘‘ مطر بن طہمان نے اس (اوزاعی) کی موافقت کی ہے۔ (مطر نے بھی اپنی روایت میں عن عطاء میں جابر کہا ہے‘ نہ کہ عن ابن عباس۔