سنن النسائي - حدیث 3885

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ بَابُ: مَا الْوَاجِبُ عَلَى مَنْ أَوْجَبَ عَلَى نَفْسِهِ نَذْرًا فَعَجَزَ عَنْهُ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذَا فَقِيلَ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3885

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل جس شخص نے کوئی نذر اپنے آپ پر واجب کرلی لیکن وہ اسے پورا کرنے سے عاجز ہے تو اس پر کیا واجب ہوگا؟ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کا گزر ایسے شخص پر سے ہوا جسے اس کے دو بیٹے پکڑ کر سہارے سے چلا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ’’اسے کیا ہوا؟‘‘ کہا گیا: اس نے کعبہ تک پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں کہ یہ اپنے آپ کو عذاب میں ڈالے۔‘‘ چنانچہ آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔ ’’حکم دیا‘‘ کیونکہ وہ چلنے سے عاجز تھا۔ جو چل سکے‘ وہ چلے عاجز ہوجائے تو سوار ہوجائے اور کفارہ دے۔