سنن النسائي - حدیث 3855

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ إِذَا أَهْدَى مَالَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ صحيح أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ فَقُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ مُخْتَصَرٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3855

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل جب کوئی شخص اپنا مال بطور نذر صدقے کے لیے پیش کرے تو؟ حضرت عبداللہ بن کعب سے راویت ہے کہ انہوں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا‘ جب وہ غزوئہ تبوک میں رسول اللہﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب میں رسول اللہﷺ کے سامنے بیٹھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنے مال کو اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اپنے مال سے لا تعلق ہوجاؤں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اپنا کچھ مال رکھ لے۔ یہ تیرے لیے بہتر ہے۔‘‘ میں نے کہا: میں اپنی خیبر والی جائیداد رکھ لیتا ہوں۔ یہ روایت مختصر ہے۔ (۱) ’’آپ کے سامنے بیٹھا‘‘ یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کی توبہ کی قبولیت کااعلان ہوگیا تھا اور وہ رسول اللہﷺ کی ملاقات وزیارت کو بے تابانہ حاضر ہوئے تھے۔ آخر پچاس دن بیت چکے تھے۔ (۲) ’’میری توبہ میں سے ہے‘‘ گویا انہوں نے جب توبہ کی تھی تو ساتھ نذر بھی مانی تھی کہ اگر میری توبہ قبول ہوگئی تو میں اپنا سارا مال صدقہ کردوں گا۔ اب آپ کے سامنے ذکر کیا تو آپ نے اصلاح فرمادی کہ سارا مال صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ کچھ مال اپنے پاس بھی رکھنا چاہیے تاکہ نذر ماننے والا محتاج ہی نہ ہوجائے۔ اس طرح یہ آئندہ کے لیے بھی دستور بن گیا کہ اگر کوئی شخص اپنا سارا مال صدقہ کرنے کی نذر مان لے تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق مال رکھ سکتا ہے بلکہ اسے رکھنا چاہیے۔ اور اس حدیث کو مذکورہ باب کے تحت ذکر کرنے کی یہی وجہ ہے۔ واللہ اعلم۔