سنن النسائي - حدیث 3848

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ اقْضِهِ عَنْهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3848

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل جو شخص فوت ہوجائے اور اس کے ذمے نذر باقی ہو تو؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے سول اللہﷺ نے سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمے تھی لیکن وہ اس کی ادائیگی سے پہلے فوت ہوگئی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’تم اس کی طرف سے ادا کردو۔‘‘ کسی راویت میں صراحت نہیں کہ وہ نذر کیا تھی؟ بعض حضرات نے ایک روایت سے استنباط کیا ہے کہ وہ نذر غلام آزاد کرنے کی تھی مگر اس روایت میں بھی صراحت نہیں کہ نذر آزاد کرنے کی تھی۔ اس میں صرف غلام آزاد کرنے کا ذکر ہے۔ ممکن ہے وہ غلام نذر کے کفارے میں آزاد کیا گیا ہو‘ نہ کہ بطور نذر۔ بعض نے روزے کہا ہے۔ واللہ اعلم۔ بہر صورت اگر میت نذر پوری کرنے کی وصیت کرجائے تو نذر پوری کرنا ورثاء پر فرض ہوگا ورنہ مستحب