سنن النسائي - حدیث 3845

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ تَعَالَى صحيح أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3845

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل جو شخص بیت اللہ تک پیدل جانے کی نذر مانے تو (اس کا حکم)؟ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری بہن نے بیت اللہ تک پیدل جانے کی نذر مانی‘ پھر اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس کے متعلق رسول اللہﷺ سے استفسار کروں‘ چنانچہ میں نے اس کے لیے نبی اکرمﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو۔‘‘ :(۱) پیدل جانے کا کوئی فائدہ تو نہیں اور پیدل جانا ممکن بھی ہے‘ لہٰذا یہ نذر پوری کرنی چاہیے ورنہ کفارہ ادا کرے۔ اس راویت میں کفارے کا ذکر نہیں مگر بعض دیگر روایات سے کفارے کا اثبات ہوتا ہے‘ مثلاً: ۳۸۴۶۔ (۲) ’’پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو‘‘ ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ پیدل چلے جہاں تک چل سکے۔ جب عاجز آجائے تو سوار ہوجائے۔ اور ممکن ہے آپ کا مقصود یہ ہو کہ چاہے پیدل چلے‘ چاہے سوار ہو‘ البتہ سواری کی صورت میں کفارہ دینا ہوگا۔ گویا ایسی نذر بے فائدہ ہونے کی وجہ سے پوری کرنا ضروری نہیں‘ کفارہ دے سکتا ہے۔ پہلے معنی کی رو سے اسے طاقت کی حد تک چلنا ضروری ہے۔ واللہ اعلم۔ (۳) ایسی نذر کی صورت میں کہاں سے پیدل چلے؟ بعض فقہاء کے نزدیک گھر ہی سے پیدل چلے اور بعض کے نزدیک میقات سے احرام باندھنے کے بعد۔ پہلے معنی متبادر ہیں مگر بسا اوقات یہ ممکن نہیں‘ مثلاً: پاکستان والوں کے لیے۔