سنن النسائي - حدیث 3835

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ صحيح أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ اسْتُخْرِجَ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3835

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل نذر کسی چیز کو آگے پیچھے نہیں کرتی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’(اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) نذر انسان کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں لاتی جو میں نے اس کے لیے مقدر نہ کی ہو‘ البتہ اس کے ذریعے سے بخیل شخص سے کچھ مال نکالا جاتا ہے۔‘‘ (۱) عام لوگوں کا ذہین یہ ہے کہ نذر ماننے سے شاید تقدیر یا مصیبت ٹل جاتی ہے‘ حالانکہ نذر سے کچھ بھی نہیں ہوتا‘ نہ یہ شرعاً مستسحن ہے۔ اس کی بجائے صدقہ مصیبت کو رد کرتا ہے اور دعا بھی تقدیر کو ٹال سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ دعا کی برکت سے اپنا کوئی فیصلہ بدل سکتے ہیں۔ اسے کوئی روک سکتا ہے‘ نہ مجبور کرسکتا ہے اور نہ کوئی اس سے پوچھ ہی سکتا ہے۔ {لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ہُمْ یُسْئَلُوْنَ} (الانبیاء:۲۱:۲۳) وہ سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔ لہٰذا ندر کی بجائے‘ صدقے‘ نیکی اور دعا کی طرف رغبت کرنی چاہیے۔ (۲) یہ حدیث‘ احادیث قدسیہ میں شمار کی گئی ہے۔