سنن النسائي - حدیث 3831

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ فِي اللَّغْوِ وَالْكَذِبِ صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ وَيُسَمِّينَا النَّاسُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنْ الَّذِي سَمَّيْنَا أَنْفُسَنَا وَسَمَّانَا النَّاسُ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمْ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3831

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل فضول باتوں اور (بلاقصد) جھوٹ کا حل؟ حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا: ہم مدینہ منورہ میں غلے کی خریدوفروخت کیا کرتے تھے اور اپنے آپ کو سمسار کہا کرتے تھے۔ لوگ بھی ہمیں یہی کہتے تھے۔ رسول اللہﷺ ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے ہمیں ہمارے اور لوگوں کے رکھے ہوئے نام سے بہترین نام دیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اے تاجروں کی جماعت! تمہارے سودوں میں (بلاقصد وارادہ) جھوٹ اور قسموں کی ملاوٹ ہوتی ہے‘ لہٰذا تم اپنے سودوں کے ساتھ ساتھ صدقے کی بھی ملاوٹ کیا کرو۔‘‘ امام صاحب رحمہ اللہ نے اس باب سے اشارہ فرمایا کہ تجارت کے علاوہ بھی جس کام (مثلاً: کھیل وغیرہ) میں لغو‘ شوروغل‘ بلاوجہ قسموں وغیرہ کا امکان ہو تو وہاں بھی صدقہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح جس شخص سے بلاقصد قسم صادر ہوجاتی ہو یا اسے فالتو اور لایعنی گفتگو کی عادت ہو‘ اسے بھی صدقہ کرتے رہنا چاہیے۔