سنن النسائي - حدیث 3827

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ إِذَا حَلَفَ أَنْ لَا يَأْتَدِمَ فَأَكَلَ خُبْزًا بِخَلٍّ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَهُ فَإِذَا فِلَقٌ وَخَلٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلْ فَنِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3827

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل جب کوئی شخص قسم کھائے کہ سالن استعمال نہیں کرے گا‘ پھر سرکے کے ساتھ روٹی کھالے تو؟ حضرت جابرؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کے گھر میں داخل ہوا تو آپ کو روٹی کے ٹکڑے اور سرکہ پیش کیے گئے۔آپ نے مجھے فرمایا:کھاؤ سرکہ بہترین سالن ہے‘ سالن کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ جس چیز سے بھی روٹی تر ہوجائے یا گلے سے باآسانی گزر جائے‘ خواہ وہ شوربہ اور مائع کی شکل میں ہو یا جامد شکل میں جیسا کہ گوشت‘ انڈا وغیرہ‘ اسے سالن ہی کہیں گے۔ سرکہ بھی روٹی کو ترکرکے اپنے ذائقے کی مدد سے گلے سے گزرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ہضم میں بھی مد ہے۔ یہی سالن کے اوصاف ہیں‘ لہٰذا سرکہ بھی سالن ہے۔ سالن استعمال نہ کرنے کی قسم کھانے والا سرکہ استعمال کرے تو اسے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ اس کی قسم ٹوٹ گئی۔