سنن النسائي - حدیث 3826

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صحيح أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَا بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3826

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرلے تو (قسم والا کفارہ دینا ہوگا) حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ (اپنی ایک بیوی) حضرت زینب بنت حبش رضی اللہ عنہ کے ہاں زیادہ دیر ٹھہرے تھے کیونکہ آپ وہاں سے شہد پیتے تھے۔ میں نے اور حفصہ نے آپس میں اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرمﷺ تشریف لائیں تو وہ کہے: بلاشبہ میں آپ سے مغافیر کی بو محسوس کررہی ہوں۔ آپ نے مغافری (گوند) کھائی ہے؟ آپ ہم میں سے کسی ایک کے ہاں تشریف لائے تو اس نے یہ لفظ کہہ دیے۔ آپ نے فرمایا: ’’نہیں‘ بلکہ میں نے تو زینب بنت حجش کے ہاں سے شہد پیا ہے۔ دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا۔‘‘ تو پھر یہ آیت اتریں: {یٰاَیُّھَاالنَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ} ’’اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام قراردے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال قراردیا ہے؟‘‘ آگے حضرت عائشہ اور حفصہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: {اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ} ’’اگر تم اللہ تعالیٰ کے حضور (اپنی غلطی سے) توبہ کرو (تو تمہیں لائق ہے)۔‘‘ جب نبی اکرمﷺ نے اپنی ایک بیوی سے راز کی بات کہی‘‘ اس میں اشارہ ہے آپ کے فرمان کی طرف کہ ’’میں نے تو شہد پیا ہے‘ (آئندہ نہیں پیوں گا)۔‘‘ کسی حلال چیز کو اپنے لیے حرام قرار دے لینا‘ نذر اور قسم کی طرح ہے۔ حلال کو حرام کرنا بھی صحیح نہیں‘ لہٰذا اس چیز کو استعمال کرنا ہوگا اور کفارہ دینا ہوگا۔ اگرچہ ظاہراً قسم یا نذر کے الفاظ نہ ہوں۔ (تفصیل کے لیے دیکھے‘ حدیث: ۳۴۱۰)