سنن النسائي - حدیث 3823

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ الْيَمِينُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ حسن صحيح أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ وَلَا فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3823

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل غیر مملوکہ چیز کے بارے میں قسم کھانا (غیر معتبر ہے) حضرت عمروبن شعیب کے پردارا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ) سے راویت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو چیز ملکیت میں نہیں‘ اس میں نہ نذر مانی جاسکتی ہے‘ نہ قسم کھائی جاسکتی ہے۔ اور (اسی طرح اللہ تعالیٰ کی) نافرمانی اور قطع رحمی کی نذر اور قسم بھی معتبر نہیں۔‘‘ (۱) ان چیزوں میں نذر اور قسم نہیں ماننی چاہیے‘ منع ہے۔ اور اگر کوئی ان چیزوں کے بارے میں قسم کھالے یا کوئی نذر مان لے تو وہ پوری نہیں کرنی چاہیے کیونکہ نذر یا قسم کے ساتھ ممنوع کام جائز نہیں ہوسکتا‘ البتہ ایسی قسم کے کفارے کے بارے میں اختلاف ہے۔ راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ کفارہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ سزا ہے اس بات کی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا معظم ومقدس نام ایسی چیز میں کیوں استعمال کیا جو شرعاً ممنوع ہے۔ گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے نام کی توہین ہے‘ لہٰذا ان چیزوں میں نذر اور قسم کے معتبر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ندر اور قسم کے باجود وہ کام جائز نہیں ہوگا بلکہ ایسی نذر یا قسم کو توڑنا واجب ہے۔ اور اس غلطی کا وہ کفارہ ادا کرے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ ایسی نذر یا قسم منعقد ہی نہیں ہوتی‘ لہٰذا کفارے کی ضرورت نہیں مگر یہ بات کمزور معلوم ہوتی ہے۔ (۲) مباح چیزوں میں نذر ماننا جائز ہے‘ اللہ تعالیٰ کی مصیت میں نذر ماننا جائز نہیں۔