سنن النسائي - حدیث 382

كِتَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ بَاب سُقُوطِ الصَّلَاةِ عَنْ الْحَائِضِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَتْ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 382

کتاب: حیض اور استحاضےسےمتعلق احکام و مسائل حائضہ عورت کو نماز معاف ہے(قضا دینے کی ضرورت نہیں) حضرت معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حیض والی عورت حیض کے دنوں کی نماز کی قضا ادا کرے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تو خارجی عورت ہے؟ ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حیض آتا تھا۔ ہم تو نماز کی قضا ادا نہیں کرتی تھیں اور نہ ہمیں قضا کی ادائیگی کا حکم دیا جاتا تھا۔ (۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت کو خارجی اس لیے کہا کہ خوارج کے نزدیک حیض کے دنوں کی نماز کی قضا ادا کرنا ضروری ہے۔ (۲) عورت کو حیض کے دنوں کی نماز کی قضا ادا کرنا اس لیے معاف ہے کہ ہر ماہ تیس پینتیس نمازوں کی قضا کافی مشکل ہے جب کہ ساتھ ساتھ وقتی نمازوں کی ادائیگی بھی لازمی ہے۔ بخلاف اس کے گیارہ مہینوں میں چھ سات روزوں کی ادائیگی آسان ہے جب کہ ساتھ وقتی روزے بھی نہیں، اس لیے حائضہ کو روزوں کی قضا ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ گویا اس مسئلے میں تنگی دور کرنے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔