سنن النسائي - حدیث 3806

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ الْحَلِفُ بِاللَّاتِ صحيح أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ فَقَالَ بِاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3806

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل لات کی قسم کھانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص لات کی قسم کھائے‘ وہ کہے: لا الہ الا اللہ (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں) اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے: آؤمیں تم سے جوا کھیلوں تو اسے صدقہ کرنا چاہیے۔‘‘ (۱) ’’لات‘‘ ایک بت کا نام ہے جو صفا پہاڑی پر رکھا ہوا تھا۔ جو شخص جان بوجھ کر تعظیماً ’’لات‘‘ وغیرہ کی قسم کھاتا ہے وہ کافر ہے۔ اس کے کفر میں کسی کو اختلاف نہیں۔ وہ خارج از اسلام ہوگا۔ اسے تجدید ایمان کے لیے دوبارہ کلمئہ اسلام کا اقرار کرنا ہوگا۔ اور جو شخص جہالت (عم علم) یا بھول کر قسم کھاے تو وہ لا الہ الا اللہ کہے۔ اس کلمے کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کے اس نقصان کی تلافی فرمادے گا۔ (۲) ’’صدقہ کرنا چاہیے‘‘ جوا قبیح چیز ہے جو انسان کو مادہ پرست‘ کنجوس‘ خود غرض اور پتھر دل بنادیتا ہے‘ لہٰذا اس قبیح لفظ کا علاج صدقہ بتلایا گیا جو انسان کو الٰہ پرست‘ سخی‘ ہم درد اور نرم دل بناتا ہے۔ (۳) صدقہ کتنا ہو؟ بعض کے نزدیک جو میسر ہو اور بعض کے نزدیک وہ رقم صدقہ کرے جس میں جو اکھیلنا چاہتا تھا۔ کم ہو یا زیادہ۔