سنن النسائي - حدیث 3800

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ الْحَلِفُ بِالْأُمَّهَاتِ صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ وَلَا بِالْأَنْدَادِ وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3800

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل ماؤں کی قسم کھانا (بھی ناجائز ہے) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’نہ تم آباؤاجداد کی قسم کھاؤ‘ نہ ماؤں کی اور نہ بتوں کی‘ بلکہ صرف اللہ کی قسم کھاؤ اور صرف اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو۔‘‘ (۱) لفظ ’’انداد‘‘ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد وہ چیزیں ہیں جنہیں لوگ معبود سمجھتے ہیں یا معبود جیسا سلوک کرتے ہیں‘ خواہ زندہ ہوں یا مردہ‘ جاندار ہوں یا بے جان۔ چونکہ اس وقت عام بتوں کی پوچا ہوتی تھی‘ اس لیے یہ معنی کیے گئے ہیں‘ نیز یاد رہنا چاہیے کہ بت دراصل کچھ نیک لوگوں کے مجسمے تھے ورنہ شرک صرف پتھروں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ (۲) اگرچہ ہر غیراللہ کی قسم کھانامنع ہے مگر بتوں یا معروف معبودوں کی قسم کھانا تو شرک ہے‘ اس لیے کہ یہ مشرکین سے مشابہت ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی قسم کھانا بھی اس میں داخل ہے۔ (۳) جھوٹی قسم کھانا حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے جیسا کہ دوسری احادیث میں ذکر ہے۔