سنن النسائي - حدیث 3795

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ التَّشْدِيدُ فِي الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا فَقَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3795

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل غیر اللہ کی قسم کھانا سخت گناہ ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص قسم کھانا چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم نہ کھائے۔‘‘ قریش اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں کھایا کرتے تھے‘ لہٰذا آپ نے فرمایا: ’اپنے آباؤاجداد کی قسمیں نہ کھایا کرو۔‘‘ (۱) قسم انتہائی معظم ذات کی کھائی جاتی ہے۔ اور حقیقتاً معظم اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے‘ لہٰذا قسم اسی کے نام کی ہونی چاہیے۔ آباؤاجداد اگرچہ تعظیم ہیں مگر وہ حقیقتاً صاحب عظمت نہیں‘ لہٰذا ان کے نام کی قسم کھانا جائز نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی کسی بھی مخلوق کہ انبیاء‘ ملائکہ اور کعبہ وغیرہ کی قسم بھی ممنوع ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بھی عبادت جائز نہیں۔ گویا قسم بھی عبادت ہے۔ (۲) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی مخلوقات کی قسمیں کھائی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قسم تعظیم کی خاطر نہیں ہوتی بلکہ استدلال کی خاطر ہوتی ہے‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوقات شرعی اصول کی صحت وصداقت پر گواہ ہیں۔ (۳) غیر اللہ کے نام پر کھائی گئی قسم کا انعقاد نہیں ہوگا کیونکہ یہ حرام ہے۔ ایسی قسم کھانے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے رب سے استغفار کرے۔