سنن النسائي - حدیث 3791

كِتَابُ الْعُمْرَى عَطِيَّةُ الْمَرْأَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقَالَ مَا هَذَا فَقِيلَ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3791

کتاب: عمریٰ سے متعلق احکام و مسائل کیا عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دے سکتی ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس گوشت لایا گیا۔ آپ نے پوچھا: ’’یہ کیسا ہے؟‘‘ عرض کی گئی کہ یہ گوشت بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا (اور اس نے اس میں سے کچھ نہیں بھیجا ہے)۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ اس کے لیے صدقہ تھا‘ ہمارے لیے تحفہ اور ہدیہ ہے۔‘‘ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ صدقے کے مال سے کوئی غریب شخص ہدیہ بھیج سکتاہے۔ اور اسے ہر شخص قبول کرسکتا ہے‘ امیر ہو یا غریب کیونکہ اب اس کی حیثیت تحفے کی ہے‘ صدقے کی نہیں۔ گویا جو چیز بذات خود حرام نہ ہو تو دینے والے اور لینے والے کی نیت اور حیثیت کے لحاظ سے اس کی حیثیت بدلتی رہتی ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل پیچھے گزرچکی ہے۔ دیکھیے‘ حدیث: ۳۴۷۷۔