سنن النسائي - حدیث 3790

كِتَابُ الْعُمْرَى عَطِيَّةُ الْمَرْأَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا حسن صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3790

کتاب: عمریٰ سے متعلق احکام و مسائل کیا عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دے سکتی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کسی قریشی‘ انصاری‘ ثقفی یا دوسی شخص کے علاوہ سے تحفہ قبول نہیں کروں گا۔‘‘ (۱) اس فرمان کا سبب یہ ہوا کہ ایک اعرابی نے آپ کو ایک اونٹ تحفے میں دیا۔ اس کامقصد معاوضـہ لینا تھا۔ آپ نے اسے چھ اونٹ دے دیے‘ پھر بھی وہ راضی نہ ہوا‘ اس لیے آپ نے یہ ارشاد فرمایا کیونکہ لوگوں نے آپ کو عام بادشاہوں کی طرح سمجھ رکھا تھا کہ جن سے حیلے بہانوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ (۲) قریشی‘ انصاری‘ ثقفی‘ دوسی چونکہ آپ کے تربیت یافتہ اور آپ کی حیثیت سے واقف تھے‘ وہ آپ کو تحفہ تبرک کی غرض سے دیتے تھے‘ اس لیے آپ نے ان قبیلوں کو مستثنیٰ قراردیا ہے۔ (۳) اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ اگر تحفہ دینے وال لالچی شخص ہو اور جو عوض دیا جائے اس پر راضی نہ ہوتا ہو تو تحفہ قبول کرنے سے انکار بھی کیا جاسکتا ہے۔ (۴) تحفہ دینے والے کو اس کے تحفے کے مقابل عوض دینا جائز ہے۔