سنن النسائي - حدیث 3717

كِتَابُ النُّحْلِ ذِكْرُ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي النُّحْلِ صحيح أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3717

کتاب: عطیہ سے متعلق احکام و مسائل عطیہ کرنے کے بارے میں حضرت نعمان بن بشیرؓ کی روایت کے ناقلین کے لفظی اختلاف کا بیان حضرت مفضل بن مہلب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خطبے کے دوران میں فرماتے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو۔ اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو۔‘‘ (۱) مذکورہ بالا بعض روایات میں مطلق اولاد کا ذکر ہے۔ لفظ اولاذ مذکر اور مؤنث دونوں پر بولا جاتا ہے‘ اس لیے اگر آدمی اپنی زندگی میں اولاد کو ہبہ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی تمام اولاد (مذکرومؤنث) میں برابری کرے۔ وراثت کی تقسیم میں مذکرومؤنث کا فرق کیا جائے گا ہبہ اور عطیہ میں نہیں۔ واللہ اعلم۔ (۲) جمہور اہل علم نے بیٹوں میں برابری کو مستحب قراردیا ہے‘ واجب نہیں‘ مگر ایسی صحیح اور صریح روایات کی موجودگی میں یہ موقف درست نہیں۔