سنن النسائي - حدیث 3706

كِتَابُ النُّحْلِ ذِكْرُ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي النُّحْلِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ نُحْلًا فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ أَشْهِدْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا نَحَلْتَ ابْنِي فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْهَدَ لَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3706

کتاب: عطیہ سے متعلق احکام و مسائل عطیہ کرنے کے بارے میں حضرت نعمان بن بشیرؓ کی روایت کے ناقلین کے لفظی اختلاف کا بیان حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد نے مجھے ایک (غلام کا) عطیہ دیا۔ میری والدہ ان سے کہنے لگیں: میرے بیٹے کے عطیے پر رسول اللہﷺ کو گواہ بنالیں۔ میرے والد رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور پوری بات آپ سے ذکر کی۔ نبی اکرمﷺ نے اس پر گواہ بننا پسند نہیں فرمایا۔ (۱) ’’گواہ بنالیں‘‘ کہیں کل کو دوسرے بیٹے جھگڑا نہ کریں۔ (۲) ’’پسند نہیں فرمایا‘‘ کیونکہ یہ ظلم تھا اور ظلم پر گواہ بننا ظلم میں شرکت کے مترادف ہے۔ ۳۷۰۷- حضرت بشیر بن سعدbسے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو غلام تحفے میں دیا۔ پھر وہ نبی اکرمa کے پاس آئے کہ نبیa کو اس تحفے پر گواہ بنالیں۔ آپ نے فرمایا: ’’کیا تم نے پوری اولاد کو ایسے تحفے دیے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا‘ پھر اسے بھی واپس کر۔‘‘