سنن النسائي - حدیث 3694

كِتَابُ الْوَصَايَا ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى سُفْيَانَ حسن أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ سَقْيُ الْمَاءِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3694

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل سفیان پر (واقع ہونے والے) اختلاف کا ذکر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ محترمہ فوت ہوگئی ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتاہوں؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ میں نے عرض کیا: کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’پانی پلانا۔‘‘ ) محقق کتاب نے مذکورہ روایت اور مابعد کی دوروایات کو سنداً ضعیف قرارادیا ہے جبکہ دیگر محققین نے ان روایات کو شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔ راجح یہی ہے کہ یہ روایت شواہد کی بنا پر حسن ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسنند الامام احمد: ۳۷/ ۳۶۶، رقم: ۱۴۷۴۔ ۱۴۷۶) (۲) وقت وقت کی بات ہے۔ اس وقت پانی کی قلت تھی‘ اس لیے آپ نے پانی پلانے کو افضل قراردیا۔ ضروری نہیں کہ ہر جگہ اور ہر وقت ہی افضل ہو۔ جسے بھوک ہے‘ ظاہر ہے اسے کھانا کھلانا افضل ہوگا۔ اسی طرح میت کے حق میں دعا کرتے رہنا ان صدقات سے بھی افضل ہے۔ ممکن ہے آپ نے پانی پلانے کو اس لیے افضل قراردیا ہو کہ اس پر انسانی اور حیوانی زندگی موقوف ہے۔ پانی پلانے سے مراد کنواں کھدوادینا یا نلکا لگانا وغیرہ ہے۔