سنن النسائي - حدیث 3675

كِتَابُ الْوَصَايَا بَاب إِذَا أَوْصَى لِعَشِيرَتِهِ الْأَقْرَبِينَ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا وَلَكِنْ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَحِمٌ أَنَا بَالُّهَا بِبِلَالِهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3675

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل جب میت اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کردے (تو مراد کون لوںگ ہوں گے؟) حضرت موسیٰ بن طلحہ سے راویت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اے عبد مناف کی اولاد! اپنے آپ کو رب تعالیٰ (کے عذاب) سے بچالو۔ میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ اے عبدالمطلب کی اولاد! اپنے آپ کو اپنے رب کریم (کے عذاب) سے چھڑالو۔ میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ لیکن میرا رم سے رشتہ ہے جس کا حق میں ادا کرتا رہوں گا۔‘‘