سنن النسائي - حدیث 3670

كِتَابُ الْوَصَايَا بَاب قَضَاءِ الدَّيْنِ قَبْلَ الْمِيرَاثِ وَذِكْرِ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ جَابِرٍ فِيهِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا الثَّمَرَةَ بِمَا عَلَيْهِ فَأَبَوْا وَلَمْ يَرَوْا فِيهِ وَفَاءً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتَهُ فِي الْمِرْبَدِ فَآذِنِّي فَلَمَّا جَدَدْتُهُ وَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَجَلَسَ عَلَيْهِ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ ادْعُ غُرَمَاءَكَ فَأَوْفِهِمْ قَالَ فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ لِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَضَحِكَ وَقَالَ ائْتِ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبِرْهُمَا ذَلِكَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُمَا فَقَالَا قَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ أَنَّهُ سَيَكُونُ ذَلِكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3670

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل قرض کی ادائیگی وراثت کی تقسیم سے قبل ہونی چاہیے اور حضرت جابرؓکی حدیث نقل کرنے والوں کے‘ اس حدیث میں‘ اختلاف الفاظ کا ذکر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا: میرے والد محترم فوت ہوئے تو ان کے ذمے بہت ساقرض تھا۔ میںنے ان کے قرض خواہوں کو پیش کش کی کہ وہ اپنے قرض کے عوض اس سال کا سارا پھل لے لیں۔ وہ نہ مانے۔ ان کا خیال تھا کہ ا س پھل سے قرض پورا نہیں ہوگا‘ چنانچہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوری بات کہہ سنائی۔ آپ نے فرمایا: ’’جب تو کھجوریں کاٹ کر کھلیانمیں رکھ لے تو مجھے اطلاع کرنا۔‘‘ جب میں نے کھجوریں کاٹ کر کھلیان میں رکھ لیں تو میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضـر ہوا‘ چنانچہ آپ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تشریف لائے اور کھلیان پر بیٹھ کر برکت کی دعا کی۔ پھر فرمایا: ’’اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ اور انہیں ان کا قرض پورا پورا دیتے جاؤ۔‘‘ جس کسی کا بھی میرے والد مرحوم کا ذمے قرض تھا‘ میں نے ان سب کو ادا کردیا‘ پھر بھی تیرہ وسق بچ گئے۔ میں نے آپ سے تذکرہ کیا تو آپ مسکرائے اور فرمایا: ’’جا کر ابوبکراور عمر کو بھی بتاؤ۔‘‘ میں نے انہیں بتایا تو وہ کہنے لگے: جب رسول اللہﷺ نے وہاں دعا کی تھی تو ہمیں اسی وقت یقین ہوگیا تھا کہ ایسے ہی ہوگا۔ :(۱) کسی بھی لمبے واقعے کی تمام تفصیلات ایک حدیث میں ذکر نہیں ہوسکتیں۔ کچھ باتیں ایک روایات میں ہوتی ہیں‘ کچھ دوسری میں‘ وھکذا‘ ا س لیے مختلف روایات ذکر فرمائیں تاکہ واقعے کی تفصیلات واضح ہوجائیں۔ اگر ظاہراً تعارض نظر آئے تو عقلی دلالت سے تطبیق دی جائے گی‘ اس لیے بعض مقامات میں قوسین میں اضافے کیے گئے ہیں۔ (۲) اگر ضرورت مند کی حاجت پوری کرنے کی قدرت نہ ہو تو دعا کے ذریعے سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔