سنن النسائي - حدیث 3656

كِتَابُ الْوَصَايَا بَاب الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ صحيح أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرَ قَالَ لَا قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3656

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل وصیت ایک تہائی مال میں ہوسکتی ہے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا: میں اس قدر بیمار ہوگیا کہ موت کو جھانکنے لگا۔ رسول اللہﷺ میری بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میںنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں۔ تو کیا میں اپنا دوتہائی مال صدقہ کردوں؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ میں نے کہا: نصف؟ فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ میں نے کہا: ایک تہائی؟ فرمایا: ’’ایک تہائی‘ ایک تہائی بھی زیادہ ہی ہے۔ تو اپنے ورثاء کو مال درا چھوڑ کر جائے تو وہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ تو انہیں فقیر بنا کر چھوڑ جائے۔ وہ لوگوں سے (بھیک) مانگتے پھریں۔ (۱) یہ واقعہ مکہ مکرمہ کا ہے فتح مکہ کے موقع پر۔ (۲) ’’بیٹی کے سوا‘‘ یعنی اولاد میں سے‘ ورنہ عصبات تو تھے۔ (۳) ’’زیادہ ہی ہے‘‘ اس سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ ثلث (تہائی) سے بھی کم میں وصیت کرنی چاہیے۔ دیگر حضرات معنی کرتے ہیں: ’’ایک تہائی بہت ہے۔‘‘ گویا ایک تہائی میں وصیت ہوسکتی ہے۔ (۴) مریض کی عیادت اور اس کے لیے شفا کی دعا کرنا مشروع ہے اور مریض کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیماری کی شدت کو بیان کرے لیک اس میں کراہت اور عدم رضا کا پہلو نہ ہو