سنن النسائي - حدیث 3644

كِتَابُ الْوَصَايَا الْكَرَاهِيَةُ فِي تَأْخِيرِ الْوَصِيَّةِ ضعيف أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ سَمِعَ أَبَا حَبِيبَةَ الطَّائِيَّ قَالَ أَوْصَى رَجُلٌ بِدَنَانِيرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَسُئِلَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ أَوْ يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي بَعْدَمَا يَشْبَعُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3644

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل وصیت میں تاخیر مکروہ ہے حضرت ابوحبیبہ طائی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے مرتے وقت چند دینار اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی وصیت کی تو حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے: ’’جو شخص مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے‘ وہ اس شخص کی طرح ہے جو خود سیر ہونے کے بعد تحفہ بھیجتا ہے۔‘‘ (۱) فاضل محقق کی تحقیق کے مطابق اس روایت کی سند حسن ہے‘ لیکن اس سند کو حسن کہنا محل نظر ہے کیونکہ اس کی سند میں ابوحبیبہ نامی راوی مجہول ہے‘ تاہم شواہد کی بنا پر بعض علماء نے اس روایت کو حسن قراردیا ہے۔ دیکھیے: (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی: ۳۰/۸۶) (۲) مقصد یہ ہے کہ موت کے وقت صدقہ ثواب کے لحاظ سے صحت کے وقت کے صدقے سے کمتر ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کا کوئی ثواب یا فائدہ نہیں کیونکہ ہر نیکی تو ہر وقت ہی مفید ہے۔