سنن النسائي - حدیث 3636

كِتَابُ الْأَحْبَاسِ بَاب وَقْفِ الْمَسَاجِدِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَذَاكَ أَنِّي قُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ اعْتِزَالَ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ مَا كَانَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَحْنَفَ يَقُولُ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا حَاجٌّ فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَى آتٍ فَقَالَ قَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا يَعْنِي النَّاسَ مُجْتَمِعُونَ وَإِذَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ نَفَرٌ قُعُودٌ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا قُمْتُ عَلَيْهِمْ قِيلَ هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ جَاءَ قَالَ فَجَاءَ وَعَلَيْهِ مُلَيَّةٌ صَفْرَاءُ فَقُلْتُ لِصَاحِبِي كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَنْظُرَ مَا جَاءَ بِهِ فَقَالَ عُثْمَانُ أَهَاهُنَا عَلِيٌّ أَهَاهُنَا الزُّبَيْرُ أَهَاهُنَا طَلْحَةُ أَهَاهُنَا سَعْدٌ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فَابْتَعْتُهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ فَاجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ قَدْ ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ قَالَ فَاجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُجَهِّزُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالًا وَلَا خِطَامًا قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3636

کتاب: وقف سے متعلق احکام و مسائل مساجد بھی وقف ہوتی ہیں حضرت حصین بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمروبن جاوان سے‘ جو کہ بنوتمیم میں سے تھے‘ پوچھا کہ حضرت احنف بن قیس (سیدنا علی ومعاویہ رضی اللہ عنہ کی کمشمکش سے) علیحدہ کیوں رہے؟ وہ کہنے لگے: میں نے حضرت احنف کو فرماتے سنا کہ میں ایک دفعہ حج کو جاتے ہوئے مدینہ منورہ گیا۔ ابھی ہم اپنے خیموں میں اپنے پالان ہی اتاررہے تھے کہ کسی آنے والے نے کہا: لوگ مسجد میں اکٹھے ہوچکے ہیں۔ میں نے جاکر دیکھا تو واقعی لوگ جمع تھے اور ان کے درمیان کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب‘ زبیر‘ طلحہ اور سعد بن ابی وقاصؓ تھے۔ جب میں ان کے پاس کھڑا تھا تو آواز آئی: یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ وہ تشریف لائے تو ان پر ایک بڑی سی زرد چادر تھی۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: ذرا ٹھہرو تاکہ میں دیکھوں‘ آپ کیسے تشریف لائے ہیں؟ حضرت عثمان فرمانے لگے: کیا یہاں علی ہیں؟ زبیر ہیں؟ طلحہ ہیں؟ سعید ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا: ’’جوشخص فلاں خاندان کا کھجوروں کا باڑہ خرید کر (مسجد میں شامل کر) دے گا‘ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا۔‘‘ میں نے وہ باڑہ خرید کردیا‘ پھر میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مں فلاں خاندان کا باڑہ خرید لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’اسے مسجد میں شامل کردو۔ اس کا ثواب تجھے ملے گا؟‘‘ سب نے کہا: بالکل درست ہے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا: ’’جو شخص رومہ کنواں خریدے گا‘ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔‘‘ میں (اسے خریدکر) رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے رومہ کا کنواں خرید لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردو۔ اس کا ثواب تمہیں ضرور ملے گا؟‘‘ سب نے کہا: بالکل ٹھیک ہے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا: ’’جو شخص تنگی والے لشکر کو تیار کرے گا‘ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔‘‘ میں نے انہیں سارا سامان دیا حتیٰ کہ وہ کوئی رسی یا مہار تک کی کمی محسوس نہ کرتے تھے؟ ان سب نے کہا: بالکل صحیح ہے۔ حضرت عثمان کہنے لگے: اے اللہ! گواہ ہوجا۔ اے اللہ! گواہ ہوجا! اے اللہ! گواہ ہوجا! (۱) ’’تنگی والا لشکر‘‘ مراد غزوئہ تبوک کا لشکر ہے کیونکہ یہ سخت گرمی اور فقر کے دور میں روانہ ہوا تھا۔ (یہ روایت تفصیلاً پیچھے گزرچکی ہے۔ (دیکھیے‘ حدیث: ۳۱۸۴) البتہ اس میں ابتدائی الفاظ نہیں۔ حضرت عمر بن جاوان کا مقصد یہ ہے کہ حضرت احنف بن قیس کا حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جنگوں سے ایسا الگ رہنا اس تأثر کی بنا پر ہے جو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعے سے اخذ کیا کہ ایسی جنگیں عظیم شخصیتوں کی شہادت کا باعث بن جاتی ہے‘ لہٰذا ان میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ کہیں ایمان ضائع نہ ہوجائے اور آدمی کسی مقدس شخصیت کے قتل مں ملوث نہ ہوجائے۔ (۲) حدیث میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا مسجد کے لیے زمین وقف کرنے کا ذکر ہے جس سے مسجد کے لیے وقف کرنا ثابت ہوتا ہے۔