سنن النسائي - حدیث 3630

كِتَابُ الْأَحْبَاسِ الْأَحْبَاسُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ وَذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى ابْنِ عَوْنٍ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ فِيهِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ وَأَنْبَأَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فِيهَا فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا كَثِيرًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُ فِيهَا قَالَ إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى أَنَّهُ لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ يَعْنِي عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ اللَّفْظُ لِإِسْمَعِيلَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3630

کتاب: وقف سے متعلق احکام و مسائل وقف کی دستاویز کیسے لکھی جائے؟ نیز ابن عمر کی حدیث کی بابت ابن عون پر اختللاف کا ذکر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے راویت ہے‘ انہوں نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی۔ وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس سلسلے میں مشورہ کیا اور کہا مجھے بہت قیمتی اور لمبی چوڑی زمین ملی ہے۔ میرا خیال ہے اس سے قبل مجھے کبھی اس سے قیمتی اور عمدہ مال نہیں ملا۔ آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’اگر تم چاہو تو اصل زمین کو وقف کردو اور اس کی آمدنی صدقہ کردو۔‘‘ چنانچہ انہوں نے زمین کو اس طرح صدقہ کردیا کہ اسے بیچا جاسکے گا‘ نہ وہ تحفے میں دی جاسکے گی۔ اور اس کی آمدنی فقرا‘ رشتہ داروں‘ غلاموں (کی آزادی)‘ مجاہدین‘ مسافروں اور مہمانوں پر صدقہ کردی۔ جو شخص ا س کا انتظام کرے تو اس کے لیے کوئی گناہ نہیں کہ وہ خود (معروف طریقے کے مطابق) اس سے کچھ کھاپی لیے یا اپنے کسی دوست کو کھلاپلا دے‘ البتہ مال جمع نہ کرے۔ الفاظ اسماعیل (بن مسعود) کے ہیں۔ یہ زمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جنگ خیبر کی غنیمت کے نتیجے میں حاصل ہوئی تھی۔