سنن النسائي - حدیث 3624

كِتَابُ الْأَحْبَاسِ باب:ما ترک رسول اللہﷺ عند وفاتہ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ قَالَ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً إِلَّا بَغْلَتَهُ الشَّهْبَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالَ قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى صَدَقَةً

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3624

کتاب: وقف سے متعلق احکام و مسائل بوقت وفات جو کچھ رسول اللہﷺ نے چھوڑا اس کا بیان حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی درہم چھوڑا نہ دینار‘ نہ غلام نہ لونڈی‘ البتہ آپ کا سفید خچر جس پر آپ سواری فرمایا کرتے تھے۔ آپ کا اسلحہ اور آپ کی زمین ترکے میں شامل تھے مگر آپ نے انہیں فی سبیل اللہ وقف فرمادیا تھا۔ قتیبہ بن سعید دوسری مرتبہ ’’بطور صدقہ‘‘ کے الفاظ بیان کرتے ہیں۔ (۱) رسول اللہﷺ نے ساری زندگی جائیداد نہیں بنائی‘ صرف کھایا پیا اور ضرورت واستعمال کی چیزیں رکھیں جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے واضح ہورہا ہے۔ ضرورت واستعمال کی چیزوں کے بارے میں بھی آپ نے صراحت فرمادی تھی کہ میری وفات کے بعد وہ چیزیں بیت المال میں چلی جائیں گی اور ان کا مفاد بھی سب مسلمانوں کو ہوگا۔ تمام انبیاءh کا یہی طرز عمل رہا ہے تاکہ کوئی نابکار یہ نہ کہہ سکے کہ انبیاء نے نبوت کا کھڑاک مال اکٹھا کرنے کے رچایا تھا۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ اسی اصول کی بنا پر رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد آپ کی متروکہ زمین تقسیم نہیں کی گئی بلکہ بیت المال میں رہی۔ فداہ نفسي وروحي وأبي وأميﷺ۔ (۲) اگر وقف کا کوئی ناظم مقرر نہ کیا گیا ہو تو وہ بیت المال میں داخل ہوگا اور حاکم وقت اس کا ناظم ہوگا۔