سنن النسائي - حدیث 3613

كِتَابُ الْخَيْلِ وَالسَّبقِ وَالرَّمیِ غَايَةُ السَّبَقِ لِلَّتِي لَمْ تُضْمَرْ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ يُرْسِلُهَا مِنْ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ وَكَانَ أَمَدُهَا مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3613

کتاب: گھوڑوں‘گھڑ دوڑ پر انعام اور تیر اندازی سے متعلق احکام و مسائل غیر تضمیر شدہ گھوڑوں کی دوڑ کا فاصلہ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے گھوڑوں میں دوڑ کروائی۔آپ نے ان کو حفیا سے ثنیۃ الۃداع تک دوڑایا۔اور جن گھوڑوں کودوڑکے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا‘ان کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنو زریق تک دوڑ کروائی۔ (۱) ’’تضمیر شدہ گھوڑے‘‘ اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جنہیں دوڑ کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا جاتا تھا۔ طریقہ یہ تھاکہ کچھ عرصے کے لیے انہیں خوب کھلا کر موٹا تازہ کرلیا جاتا تھا‘ پھر بتدریج خوارک کم کی جاتا تھی اور اسے ایک بند کمرے میں داخل کردیا جاتا اور س پر جل وغیرہ دے دیے جاتے‘ پھر اسے بھوکا رکھاجاتا تاکہ بکثرت پسینہ آنے سے اس کے جسم سے فالتو مواد ختم ہوجائے۔ نتیجتاً وہ مضبوط اور سخت جسم والا بن جاتا۔ خوب دوڑتا اور دوڑنے سے پسینہ نہ آتا تھا اور نہ سانس چڑھتا تھا۔ اور جنگ میں بہت مفید ثابت ہوتا تھا۔ (۲) حَفْیَاء سے تثنیۃ الوداع تک چھ میل کا فیصلہ تھا اور تثنیۃ الوداع سے مسجد بنوزریق تک ایک میل۔ اتنا فرق ہوتا تھا تضمیر شدہ اور غیر تضمیر شدہ گھوڑوں میں۔ (۳) بہترین افادیت کے حصول کے لیے جانوروں کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جاسکتا ہے جس میں ان کے لیے زیادہ مشقت اور تکلیف کا پہلو ہو جیسا کہ تضمیر کے لیے بھوکا رکھنا اور کمرے میں بند رکھنا وغیرہ۔ (۴) مسجد کی نسبت مسجد بنانے والے کی طرف کی جاسکتی ہے اور یہ نسبت تمیز کے لیے ہوگی نہ کہ تملیک کے لیے۔