سنن النسائي - حدیث 3609

كِتَابُ الْخَيْلِ وَالسَّبقِ وَالرَّمیِ بَاب دَعْوَةِ الْخَيْلِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ عِنْدَ كُلِّ سَحَرٍ بِدَعْوَتَيْنِ اللَّهُمَّ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ وَجَعَلْتَنِي لَهُ فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ أَوْ مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3609

کتاب: گھوڑوں‘گھڑ دوڑ پر انعام اور تیر اندازی سے متعلق احکام و مسائل گھوڑے کی دعا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’ہر عربی گھوڑے کو رات کے آخری حصے میں دودفعہ اس دعا کی اجازت دی جاتی ہے‘ اے اللہ! تو نے انسانوں میں سے جس شخص کو میرا مالک بنایا ہے اور مجھے اس کے ساتھ خاص کیا ہے‘ ا س کے ہاں مجھے اس کے اہل ومال سے محبوب ترین چیز بنادے۔‘‘ (۱) قرآن وحدیث سے صراحتاً ثابت ہوتا ہے کہ جانور بھی اپنی زبان میں کلام کرتے ہیں۔ چونکہ ہم ان کی زبان نہیں سمجھ سکتے‘ لہٰذا ہم انہیں بے زبان سمجھ لیتے ہیں۔ خصوصاً اللہ تعالیٰ سے تو ہر چیز ہی کلام کرتی ہے‘ لہٰذا حدیث میں کوئی اشکال نہیں۔ (۳) ’’رات کے آخری حصے میں‘‘ کیونکہ یہ قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔ (۳) ’’عربی گھوڑے‘‘ یہ الفاظ غالباً اس زمانے کے اعتبار سے ہیں ورنہ عجمی گھوڑا عجمی زبان میں دعا کرتا ہو گا۔ واللہ اعلم۔