سنن النسائي - حدیث 36

ذِكْرُ الْفِطْرَةِ كَرَاهِيَةُ الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ صحيح ، دون قوله : " فإن عامة الوسواس منه " أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 36

کتاب: امور فطرت کا بیان غسل خانے میں پیشاب کرنا منع ہے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سےروایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اپنے غسل کی جگہ میں پیشاب نہ کرے کیونکہ عموماً وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘ (۱) غسل والی جگہ میں پیشاب کرنا منع ہے کیونکہ بعد میں غسل کا پانی وہاں گرے گا اور چھینٹے اڑیں گے، نیز پانی ملنےسے نجاست پھیل جائے گی۔ ویسے بھی عقل سلیم تقاضا کرتی ہے کہ نجاست والی جگہ پر طہارت اور طہارت والی جگہ پر نجاست نہ کی جائے۔ اس سے طبع انسانی کو گھن آتی ہے چاہے نجاست لگنے کا احتمال نہ بھی ہو، جیسے کوئی عقل مند شخص نجاست کے قریب بیٹھ کر کھانا پینا گوارا نہیں کرتا، اسی طرح کا یہ مسئلہ ہے۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ اگر وہاں پیشاب جمع نہ ہوتا ہو، تو پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں، مگر یہ فطرت سلیمہ کے خلاف ہے اور اسلام دین فطرت ہے، نیز یہ نص کے ظاہر الفاظ کے عموم کے بھی مخالف لگتا ہے۔ (۲) شیخ البانی رحمہ اللہ نے [فإن عامۃ الوسواس منہ] کے الفاظ کے سوا باقی پوری حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور انھی کی رائے مضبوط لگتی ہے کیونکہ اس جملے کی تائید دیگر شواہد سے نہیں ہوتی۔ واللہ أعلم۔ دیکھیے: (صحیح سنن النسائي، حدیث: ۳۶)