سنن النسائي - حدیث 3597

كِتَابُ الْخَيْلِ وَالسَّبقِ وَالرَّمیِ الشِّكَالُ فِي الْخَيْلِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَرِهَ الشِّكَالَ مِنْ الْخَيْلِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ الشِّكَالُ مِنْ الْخَيْلِ أَنْ تَكُونَ ثَلَاثُ قَوَائِمَ مُحَجَّلَةً وَوَاحِدَةٌ مُطْلَقَةً أَوْ تَكُونَ الثَّلَاثَةُ مُطْلَقَةً وَرِجْلٌ مُحَجَّلَةً وَلَيْسَ يَكُونُ الشِّكَالُ إِلَّا فِي رِجْلٍ وَلَا يَكُونُ فِي الْيَدِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3597

کتاب: گھوڑوں‘گھڑ دوڑ پر انعام اور تیر اندازی سے متعلق احکام و مسائل گھوڑوں میں شکال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے گھوڑے میں شکال کو ناپسند فرمایا ہے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی رحمہ اللہ ) بیان کرتے ہیں کہ شکال یہ ہے کہ تین پاؤں تو سفید ہوں مگر ایک عام رنگ کا ہو۔ یا تین پاؤں عام رنگ کے ہوں اور ایک سفید ہو‘ نیز شکال پاؤں میں ہوتا ہے‘ ہاتھوں میں نہیں۔ (۱) نبیﷺ کا گھوڑوں میں شکال کو ناپسند کرنا دووجوہات کی بنا پر ہوسکتا ہے: ممکن ہے اس دور کا تجربہ شاہد ہو کہ ایسے گھوڑے جنگ میں اتنے مفید نہیں ہوتے۔ عربی زبان میں شکال گھوڑے کی تین ٹانگوں کو باندھنے کو کہتے ہیں۔ اس طرح لفظ شکال میں کوئی اچھا تفاؤل نہیں پایا جاتا‘ اس لیے ممکن ہے آپ نے اس ظاہری معنی کی وجہ سے ناپسند فرمایا ہو۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بچے کی پیدائش پر جانور ذبح کرنا سنت ہے لیکن آپ نے اس کے لیے لفظ عقیقہ ناپسند فرمایا کیونکہ اس میں عقوق (نافرمانی) کا معنی متبادر ہے۔ (۲) ’’شکال‘‘ کی اور بھی کئی تعریفیں کی گئی ہیں جن کی تفصیل شروحات حدیث میں موجود ہے۔ آج کل بھی جنگوں میں گھوڑوں کی کافی اہمیت ہے اگرچہ لڑائی کی نوعیت بدل چکی ہے۔