سنن النسائي - حدیث 3575

كِتَابُ الطَّلَاقِ الرُّخْصَةُ فِي خُرُوجِ الْمَبْتُوتَةِ مِنْ بَيْتِهَا فِي عِدَّتِهَا لِسُكْنَاهَا ضعيف الإسناد ، و قوله : " أم كلثوم " منكر ، و المحفوظ : " أم شريك " أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ وَكَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي وَأَمَرَ وَكِيلَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ فَتَقَالَّتْهَا فَانْطَلَقَتْ إِلَى بَعْضِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عِنْدَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طَلَّقَهَا فُلَانٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا وَزَعَمَ أَنَّهُ شَيْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ قَالَ صَدَقَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ كُلْثُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ امْرَأَةٌ يَكْثُرُ عُوَّادُهَا فَانْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى فَانْتَقَلَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو الْجَهْمِ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا فَقَالَ أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ أَخَافُ عَلَيْكِ قَسْقَاسَتَهُ لِلْعَصَا وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ أَمْلَقُ مِنْ الْمَالِ فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3575

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل :۷۰۔ جس عورت کو طلاق بائن ہوچکی ہو‘ وہ دوران عدت اپنے گھر سے کسی دوسری جگہ جاسکتی ہے حضرت عبدالرحمن بن عاصم سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بت قیسؓ‘ جو کہ بنومخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی‘ نے مجھے بتایا کہ میرے خاوند نے مجھے آخری طلاق دے دی۔ وہ کسی جنگ کو گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے وکیل کو حکم دیا کہ مجھے کچھ اخراجات وغیرہ ادا کرے۔ میں نے انہیں کم محسوس کیا۔ میں نبیﷺ کی کسی زوجئہ مطہرہ کے پاس گئی۔ رسول اللہﷺ تشریف لائے تو میں ان کے پاس ہی تھی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت قیس ہے۔ اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی ہے اور کچھ اخراجات بھی بھیجے ہیں لیکن اس نے (کم سمجھ کر) قبول نہیں کیے جب کہ خاوند کا خیال ہے کہ میں نے یہ بھی بطور احسان بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’وہ درست کہتا ہے۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا: ’’تو ام کلثوم کے گھر چلی جا اور وہاں عدت گزار۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا: ’’ام کلثوم کے پاس آنے جانے والوں کی کثرت رہتی ہے‘ لہٰذا تو عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجا۔ وہ نابینا شخص ہے۔‘‘ میں ان کے گھر منقتل ہوگئی اور وہیں عدت گزاری۔ جب عدت ختم ہوئی تو ابو جہم اور معاویہ بن ابوسفیان نے مجھے نکاح کے پیغام بھیجے۔ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس بارے میں مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا: ’’ابوجہم کے بارے میں تو مجھے خطرہ ہے کہ اس کی لاٹھی ہر وقت حرکت میں رہے گی۔ باقی رہا معاویہ! تو وہ مالی لحاظ سے فقیر ہے۔‘‘ بعد میں میں نے حضرت اسامہؓ سے نکاح کرلیا۔ ’’ام کلثوم‘‘ یہ درست نہیں۔ دیگر روایات میں ’’ام شریک‘‘ ذکر ہے اور یہی درست ہے۔ (باقی تفصیلات کے لیے دیکھئے‘ احادیث: ۳۲۲۴، ۳۲۳۹، ۲۳۴۶، ۳۲۴۷)