سنن النسائي - حدیث 3569

كِتَابُ الطَّلَاقِ النَّهْيُ عَنْ الْكُحْلِ لِلْحَادَّةِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ابْنَتِهَا مَاتَ زَوْجُهَا وَهِيَ تَشْتَكِي قَالَ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَحِدُّ السَّنَةَ ثُمَّ تَرْمِي الْبَعْرَةَ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3569

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل سوگ والی عورت کے لیے سرمہ لگانا منع ہے حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبیﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھا جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا اور اسے آنکھوں کی تکلیف تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’جاہلیت کے دور میں ایسی عورتوں کو ایک سال تک سوگ کرنا پڑتا تھا‘ پھر سال کے بعد وہ مینگنی پھینکتی تھی۔ اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے۔‘‘ (۱) چونکہ آنکھوں کی تکلیف کا علاج سرمہ سوگ کے سراسر خلاف ہے‘ اس لیے اس دوران میں سرمہ لگانا منع ہے۔ (۲) ’’صرف چار ماہ دس دن‘‘ طلاق کی عدت تین حیض ہے مگر وفات کی عدت چار ماہ دس دن ہے کیونکہ اس میں سوگ کا اضافہ بھی ہے‘ نیز مدت کی زیادتی سے استبرائے رحم کا یقین حاصل ہوجائے گا کیونکہ چار ماہ کے بعد لازماً بچہ حرکت شروع کردیتا ہے۔