سنن النسائي - حدیث 3557

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَاب سُقُوطِ الْإِحْدَادِ عَنْ الْكِتَابِيَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3557

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل یہودی یا عیسائی عورت کا خاوند فوت ہوجائے تو اس پر سوگ نہیں حضرت ام حبیبہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اس منبر پر فرماتے سنا: ’’جو عورت اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہے‘ ا س کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے‘ البتہ وہ خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔‘‘ : باب پر استدلال ظاہر الفاظ سے ہے کیونکہ اسلامی شریعت مسلمانوں کے لیے ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا موقف بھی یہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور کا موقف یہ ہے کہ اس پر بھی سوگ واجب ہے لیکن اس حدیث سے پہلے موقف کی تائید ہوتی ہے۔