سنن النسائي - حدیث 3551

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَاب عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي نَاسٍ بِالْكُوفَةِ فِي مَجْلِسٍ لِلْأَنْصَارِ عَظِيمٍ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى فَذَكَرُوا شَأْنَ سُبَيْعَةَ فَذَكَرْتُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ فِي مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَوْنٍ حَتَّى تَضَعَ قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى لَكِنَّ عَمَّهُ لَا يَقُولُ ذَلِكَ فَرَفَعْتُ صَوْتِي وَقُلْتُ إِنِّي لَجَرِيءٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ قَالَ فَلَقِيتُ مَالِكًا قُلْتُ كَيْفَ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ قَالَ قَالَ أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3551

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے‘ اس کی عدت حضرت محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں کوفہ شہر میں انصار کی ایک بہت بڑی مجلس میں بیٹھا تھا۔ ان میں حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بھی موجود تھے۔ حاضرین نے حضرت سبیعہؓ کا واقعہ ذکر کیا۔ میں نے حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے ذکر کیا کہ جب بچہ پیدا ہو تو عور کی عدت ختم ہوجاتی ہے۔ حضرت ابن ابی لیلیٰ کہنے لگے: لیکن ان کے چچا (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) تو اس کے قائل نہیں۔ میں نے ذرا بلند آواز میں کہا: اگر میں حضرت عبداللہ بن عتبہ پر بہتان باندھوں جب کہ وہ کوفہ شہر میں زندہ موجود ہیں‘ پھر میں تو بہت بے باک ہوں؟ پھر میں اپنے استاد حضرت مالک سے ملا۔ میں نے کہا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سبیعہ کے بارے میں کیا فرماتے تھے؟ مالک کہنے لگے کہ انہوں نے فرمایا: کیا تم اس پر سختی کرتے ہو‘ نرمی نہیں کرتے؟ چھوٹی سورئہ نساء (سورئہ طلاق) بڑی سورئہ نساء سے بعد اتری ہے۔ (۱) ’’سختی کرتے ہو‘‘ یعنی اگر عورت کو آخری عدت گزارنے کا پابند ہوجائے تو یہ اس پر بے جاسختی ہے کہ بچہ پہلے پیدا ہوتو چار ماہ دس دن پورے کرے اور اگر چار ماہ دس دن پہلے پورے ہوجائیں تو بچہ پیدا ہونے کا انتظار کرے۔ گویا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس مسلک کو پسند نہیں فرمایا بلکہ وہ حاملہ عورت کے لیے وضـح حمل ہی کو عدت قراردیتے تھے۔ (۲) ’’چھوٹی نسائ‘‘ یعنی وہ چھوٹی سورت جس میں عورتوں کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ اس سے مراد سورئہ طلاق ہے جس میں یہ آیت ہے: {وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلَھُنَّ اَنّْ یَّضَعْنَ حَمَلَھُنَّ} (الطلاق۶۵:۴) ’’حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش) ہے۔‘‘ (۳) بڑی سورئہ نساء سے مراد وہ بڑی سورت ہے جس میں عورتوں کے مسائل بیان ہوئے‘ یعنی سورئہ بقرہ جس میں ذکر ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے‘ وہ چار مہینے دس دن انتظار کرے۔ ا(۴) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ ہے کہ حاملہ عورتو ںکا حکم بعد میں بیان کیا گیا‘ لہٰذا وہ چار ماہ دس دن کے حکم سے مستثنیٰ ہیں اور یہی مسلک ہے۔ (۵) حق بات پہنچنے کے لیے اہل علم بیٹھ کر کسی مسئلے کے بارے میں بحث مباحثہ کرسکتے ہیں۔