سنن النسائي - حدیث 3529

كِتَابُ الطَّلَاقِ مَا اسْتُثْنِيَ مِنْ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَاتِ حسن صحيح أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا وَقَالَ وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ الْآيَةَ وَقَالَ يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ فَأَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنْ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ وَقَالَ وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَقَالَ وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنْ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنْ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ تَعَالَى وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا(الاحزاب:49)

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3529

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل طلاق والی عورتوں کی عدت میں استثنا بھی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے (نسخ کے دلائل ذکر کرتے ہوئے) یہ آیات پڑھیں: {مَا نَنْسْخْ مِنْ اٰیۃٍ…اَوْ مِثْلِھَا} ’’جو آیت ہم منسوخ کردیں یا بھلادیں‘ ہم اس سے بہتر آیت لاتے ہیں یا اس جیسی۔‘‘ اور فرمایا: {وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً… بِمَا یُنَزِّلُ} ’’جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت لے آتے ہیں‘ اور اللہ تعالیٰ اپنی اتری ہوئی آیات کو خوب جانتا ہے۔‘‘ اور فرمایا: {یَمْحُو اللہُ مَایَشَآئُ… أُمُّ الْکِتَابِ} ’’اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹادیتا ہے اور جو چاہے باقی رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس اصل کتاب ہے۔‘‘ قرآن مجید میں سب سے پہلے قبلہ منسوخ ہوا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْئٍ} ’’طلاق شدہ عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو (نیا نکاح کرنے سے) روک رکھیں۔‘‘ پھر فرمایا: {وَالّٰئِی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ… ثَلٰثَۃُ اَشْھُرٍ} ’’وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو چکی ہیں‘ اگر تمہیں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔‘‘ (اس آیت کے ذریعے سے) پہلی آیت میں سے کچھ حصہ منسوخ کردیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ… تَعْتَذِرُوْنَھَا} ’’اگر تم عورتوں کو جماع سے پہلے طلاق دو تو ان پر کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو۔‘‘ شاید امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہوسکتی ہے اگرچہ قرآن مجید میں طلاق کی عدت تین حیض مقرر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں سے کچھ صورتیں منتثنیٰ فرمائی ہیں‘ مثلاً وہ عورتیں جن کو حیض آنا بند ہوچکا ہے یا ابھی شروع نہںی ہوا۔ اسی طرح وہ عورت جس کو جماع کیے بغیر طلاق دے دی جائے ا سکی عدت ہے ہی نہیں۔ اگر یہ صورتیں مستثنیٰ ہوسکتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ صحیح حدیث کی وجہ خلع کو اس سے مستثنیٰ نہ کیا جائے؟ جس حکم سے ایک دفعہ استثنا ہوجائے‘ مزید استثنا بھی ممکن ہے۔ یہ متفقہ بات ہے۔