سنن النسائي - حدیث 3522

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَاب الْقُرْعَةِ فِي الْوَلَدِ إِذَا تَنَازَعُوا فِيهِ وَذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى الشَّعْبِيِّ فِيهِ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ لم أجده في الصحيح و لا في الضعيف أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْخَلِيلِ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ اشْتَرَكُوا فِي طُهْرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا صَوَابٌ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3522

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل جب بچے کے بارے میں تنازع ہوجائے تو قرعہ ڈالا جاسکتا ہے‘ نیز زید بن ارقم کی حدیث میں شعبی پر اختلاف کا ذکر حضرت ابوخلیل یا ابن ابو خلیل سے منقول ہے کہ تین آدمی ایک عورت کے طہر میں شریک ہوئے۔ باقی حدیث اسی طرح ذکر کی‘ نیز سلمہ بن کہیل نے (اپنی روایت میں) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا اور نہ روایت کو مرفوع ہی بیان کیا ہے۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ یہی (سلمہ بن کہیل کی روایت) درست ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ اس روایت میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اور نہ ا س میں رسول اللہﷺ کا ذکر ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ کے فرمان کے مطابق یہی درست ہے کیونکہ سلمہ بن کہیل باقی تینوشں سے اوثق ہے‘ لہٰذا ان (تینوں) کی روایت درست نہیں لیکن راجح بات یہ ہے کہ یہ روایت مرفوع اور متصل ہوتی ہے۔ اوثق راوی کی مخالفت کا اعتبار تب ہوتا ہے جب کوئی وجہ اختلاف بھی ہو لیکن یہاں کوئی وجہ اختلاف سمجھ میں نہیں آتی‘ا س لیے صالح ہمدانی کی روایت بھی صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔