سنن النسائي - حدیث 3518

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَاب الْقُرْعَةِ فِي الْوَلَدِ إِذَا تَنَازَعُوا فِيهِ وَذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى الشَّعْبِيِّ فِيهِ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِثَلَاثَةٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالَا لَا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالَا لَا فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3518

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل جب بچے کے بارے میں تنازع ہوجائے تو قرعہ ڈالا جاسکتا ہے‘ نیز زید بن ارقم کی حدیث میں شعبی پر اختلاف کا ذکر حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں تین آدمی لائے گئے جنہوں نے ایک عورت کے ساتھ ایک طہر میں جماع کیا تھا۔ آپ نے ان میں سے دو سے پوچھا: کیا تم اس (تیسرے) کے لیے بچے کا اقرار کرتے ہو؟ انہوںنے کہا: نہیں‘ پھر دوسرے دو سے پوچھا: تم اس تیسرے کے لیے یہ بچہ تسلیم کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آخر آپ نے ان میں قرعہ ڈالا اور بچہ اسے دے دیا جس کے نام پر قرعہ نکلا تھا۔ اور اس پر اس بچے کی دوتہائی دیت ڈال دی۔ یہ بات رسول ا للہﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ہنسنے لگے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ (۱) مذکورہ روایت کو فاضل محقق رحمہ اللہ نے سنداً ضعیف کہا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح کہا ہے اور راجح رائے نے انہی کی ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس پر مفصل بحث کی ہے اور یہی نتیجہ اخذ کیا ہے‘ لہٰذا مذکورہ روایت قابل حجت اور قابل عمل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (سنن ابی داود (مفصل) للألبانی‘ رقم: ۱۹۶۴‘ وسنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشارعواد‘ رقم:۲۳۴۸‘ وذخیرۃ العقبیٰ‘ شرح سنن النسائی: ۲۹/۱۸۷) اصل واقعہ جاہلیت کے دور کا تھا کیونکہ اسلام میں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ تین آدمی ایک طہر میں ایک عورت سے جماع کریں۔ چونکہ جاہلیت کے کاموں پر سزا نہیں دی جاسکتی تھی بلکہ اس دور کے تصرفات کو قانونی طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا کہ جو ہوا سو ہوا‘ آئندہ کے لیے اس واقعہ کا حل بھی ضروری تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خدادادذہانت سے تجویز فرمایا۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ۔ (۳) ’’قرعہ نکلا‘‘اگر کسی چیز پر کئی افراد کا حق برابر ہو لیکن وہ سب کو نہ مل سکتی ہو تو قرعہ اندازی کے ذریعے سے فیصلہ کیا جاسکتاہے۔ احادیث میں اس کا ثبوت ہے مگر احناف قرعہ اندازی کے قائل نہیں‘ حالانکہ کئی دعوے دارو ںکو مطمئن کرنے کے لیے قرعہ اندازیح کرنا ایک فطریح چیز ہے جو ہر معاشرے میں مستعمل ہے اور اس سے فیصلے ہوتے ہیں۔ جھگڑے نپٹ جاتے ہیں۔ ایسی چیز کا عقلی بنیاد پر انکار فطرت انسانیہ کے خلاف ہے۔ ہر چیز کا فیصلہ عقلی بنیاد پر ہی نہیں ہوتا‘ فطرف اصل ہے۔ (۴) ’’دوتہائی دیت ڈال دی‘‘ کیونکہ ان کو بچہ نہ مل سکا تھا‘ لہٰذا انہیں مال دے دیا۔ شرعاً بچے کی قیمت دیت معتبر ہے‘ اس لیے دیت کے لحاظ سے انہیں مال دے دیا۔ (۵) ثابت ہوا کہ بچہ ایک آدمی ہی کو ملے گا۔ دو آدمی ایک بچے میں شریک نہیں ہو سکتے‘ یعنی بچے کا نسب ایک آدمی کے ساتھ ثابت ہوگا۔ (۶) ’’ہنسنے لگے‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذہانت پر یا اس عجیب واقعہ پر۔ واللہ اعلم۔