سنن النسائي - حدیث 3514

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَاب إِلْحَاقِ الْوَلَدِ بِالْفِرَاشِ إِذَا لَمْ يَنْفِهِ صَاحِبُ الْفِرَاشِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3514

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل اگر بیوی کا خاوند یا لونڈی کا مالک بچے کی نفی نہ کرے تو بچہ (قانونی طور پر) اسی کا ہوگا حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ اور عبد بن زمعہ ایک لڑکے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ حضرت سعد نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابو وقاص کا بیٹا ہے۔ اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ آپ ذرا اس کی شکل وشباہت پر غور فرمائیں۔ عبد بن زمعہ کہنے لگا: یہ میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے ہاں اس کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس کی شکل وشباہت کو دیکھا تو وہ واضح طور پر عتبہ کے مشابہ تھا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: ’’اے عبد! یہ تیرا بھائی ہی ہے کیونکہ بچہ گھر والے کا ہوتا ہے اور زانی کو تو پتھر پڑتے ہیں۔ اے سودہ بنت زمعہ! تو اس سے پردہ کیا کر۔‘‘ اس کے بعد اس نے کبھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا۔ (۱) جس بچے کے بارے میں جھگڑا تھا‘ وہ زمعہ کی لونڈی سے پیدا ہوا تھا۔ حقیقتاً وہ عتبہ کے ناجائز نطفے سے تھا۔ جاہلیت میں لونڈیوں سے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو دعوی ٰ کرنے والے زانی کی طرف منسوب کردیا جاتا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا دعویٰ ا سی جاہلی رواج کی بنا پر تھا لیکن اسلام نے اس قبیح رسم کو ختم کیا اب زانی کی طرف بچہ منسوب نہیں ہوگا۔ عورت کا خاوند یا مالک انکار نہ کرے تو اسی کا بیٹا ہوگا۔ اگر وہ انکار کردے تو جننے والی ماں کی طرف منسوب ہوگا۔ (۲) رسول اللہﷺ کی زوجئہ محترمہ حضرت سودہؓ بھی زمعہ کی بیٹی تھیں۔ اس ناتے وہ بچہ ان کا بھی بھائی بنتا تھا مگر چونکہ حقیقتاً وہ عتبہ کے نطفے سے تھا‘ لہٰـذا قانونی بھائی ہونے کے باوجود اس سے پردے کا حکم دیا کیونکہ وہ حقیقی بھائی نہ تھا۔ یہ جھگڑا فتح مکہ کے موقع پر ہوا تھا۔ (۳) اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ قیافہ شانسی وہاں معتبر ہوگی جہاں اس کے معارض کوئی اس سے قوی دلیل نہ ہو۔ نبی اکرمﷺ نے یہاں مشابہت کا اعتبار نہیں کیا اور نہ لعان میں کیا ہے کیونکہ یہاں اس کے معارض اس سے قوی دلائل موجود ہیں‘ یعنی یہ شرعی اصول کہ بچہ بستر والے کی طرف منسوب ہوگا‘ اور لعان کی مشروعیت جبکہ زید بن حارثہ والے واقعے میں اس کا اعتبار کیا ہے کیونکہ وہاں اس کے معارض کوئی اس سے قوی دلیل موجود نہیں۔ واللہ اعلم۔ حاکم یا جج کا فیصلہ کیس کی حقیقت اور ا صلیت کو نہیں بدلے گا اگرچہ وہ فیصلہ ظاہری دلائل کی روشنی میں کرے گا جیسے کوئی جھوٹی گواہی دے اور جج اس کے مطابق فیصلہ کردے تو جس کے حق میں کسی چیز کا فیصلہ ہوا ہے اس کے لیے وہ چیز شرعاً حلال نہیں ہوگی۔ آپ نے اس بچے کو عبد بن زمعہ کا بھائی قراردیا‘ شرعی اصول کی بنا پر‘ لیکن سودہ کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا‘ اس لیے کہ حقیقتاً وہ ان کا بھائی نہیں تھا کیونکہ اس کی عتبہ سے واضح مشابہت موجود تھی۔ اس سلسلے میں نبیﷺ کا واضح فرمان بھی موجود ہے کہ اگر میں ظاہری دلائل کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کسی حق میں کردوں تو اس سے وہ چیز اس کے لیے واقعتا حلال نہیں ہوجائے گی بلکہ وہ ایسے سمجھے کہ میں اسے جہنم کا ٹکڑا دے رہا ہوں۔ اسے وہ نہیں لینا چاہیے۔ (صحیح البخاری‘ الشھادات‘ حدیث: ۲۶۸۰‘ وصحیح مسلم‘ الاقضیۃ‘ حدیث: ۱۷۱۳)