سنن النسائي - حدیث 3506

كِتَابُ الطَّلَاقِ اجْتِمَاعُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ وَلَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3506

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل لعان کرنے والوں کا بعد میں اجتماع (ممکن نہیں) حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے لعان کرنے والے خاوند کے بارے میں پوچھا تو انہوںنے کہا:رسول اللہﷺ نے لعان کرنے والے خاوند بیوی سے فرمایا تھا: ’اب تمہارا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ تم میں سے ایک تو (ضرور) جھوٹا ہے۔ اب تو اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔‘‘ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرا مال؟ آپ نے فرمایا: ’’تجھے کوئی مال نہیں ملے گا۔ اگر تو سچا ہے تو اس مال کے عوض تو اسے استعمال بھی تو کرچکا ہے اور اگر تو جھوٹا ہے تو پھر تجھے مال سے کیا واسطہ؟‘‘ لعان کرنے والے ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں۔ کسی صورت میں دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔ یہ جمہور اہل علم کا مسلک ہے۔ البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے کہ وہ ابدی حرمت کے قائل نہیں۔ صحیح بات پہلی ہے۔ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے‘ حدیث: ۳۵۰۴ کا فائدہ:۲۔