سنن النسائي - حدیث 3498

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَاب اللِّعَانِ فِي قَذْفِ الرَّجُلِ زَوْجَتَهُ بِرَجُلٍ بِعَيْنِهِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ سُئِلَ هِشَامٌ عَنْ الرَّجُلِ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ فَحَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ ذَلِكَ وَأَنَا أَرَى أَنَّ عِنْدَهُ مِنْ ذَلِكَ عِلْمًا فَقَالَ إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ وَكَانَ أَخُو الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَاعَنَ فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ ابْصُرُوهُ فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ قَالَ فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3498

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل آدمی اپنی بیوی پر کسی معین آدمی کے ساتھ زنا کا الزام لگائے تو لعان کرنا پڑے گا حضرت ہشام سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگاتا ہے‘ تو انہوں نے حضرت محمد (بن سیرین) سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا اور مجھے یقین تھا کہ ان کے پاس اس کی بابت علم ہوگا۔ وہ فرمانے لگے کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کا الزام لگایا۔ اور یہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے اخیافی بھائی تھے اور انہوں نے سب سے پہلے لعان کیا۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے خاوند بیوی کے درمیان لعان کروایا۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’اسے (پیدا ہونے والے بچے کو) دیکھنا۔ اگر اس عورت نے اسے سفید رنگ والا‘ سیدھے بالوں والا اور خراب سی آنکھوں والا جنا تو وہ ہلال بن امیہ ہی کا ہوگا اور اگر اس نے سرمیلی آنکھوں والا‘ گھنگھرالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہوگا۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بتلایا گیا کہ اس عورت نے بچے کو سرمیلی آنکھوں والا‘ گھنگرالے بالوں والا او ر پتلی پنڈلیوں والا جنا۔ معلوم ہوا کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ سچے تھے لیکن چونکہ دونوں (میاں بیوی) مقررہ قسمیں کھا چکے تھے‘ لہٰذا نبیﷺ نے عورت کو کئوی سزا نہیں دی کیونکہ سزا گواہوں کی گواہی یا اعتراف کی بنا پر ہی دی جاسکتی ہے۔ یہاں دونوں باتیں موجود نہ تھیں۔ ایسی صورت میں سزا کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ وہ اس بارے میں جو چاہے فیصلہ فرمائے۔