سنن النسائي - حدیث 348

كِتَابُ الْمِيَاهِ بَاب الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الْإِنْسَانُ مِنْ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 348

کتاب: پانی کی مختلف اقسام سے متعلق احکام و مسائل وضو اور غسل کے لیے انسان کوکتنا پانی کافی ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو ایک مد کے ساتھ اور غسل ایک صاع سے فرما لیا کرتے تھے۔ صاع چار مد کا ہوتا ہے۔ غسل کے لیے کہیں صاع، کہیں تقریباً صاع، کہیں پانچ رطل اور کہیں آٹھ رطل کا ذکر ہے۔ مفہوم اتنا مختلف نہیں۔ ’’تقریباً صاع‘‘ کے لفظ بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ صاع تقریباً ڈھائی کلو کا ہوتا ہے، گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ڈھائی، تین کلو پانی سے بھی غسل فرما لیا کرتے تھے۔